149

شہباز شریف کا ’’ویڈیو لنک کانفرنس ‘‘ سے واک آئوٹ

پاکستان میں ’’کورونا وائرس ‘‘ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی وطن واپسی نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ایسی صورت حال میں جب کہ پوری قوم ’’کوروناوائرس ‘‘ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے میاں شہباز شریف کی ’’دبنگ انٹری‘‘ کے بعد سیاسی سرگرموں میں تیزی آگئی انہوں نے ملکی صورتحال پر جہاں اپنی جماعت کے چیدہ چیدہ رہنمائوں سے وڈیو لنک پر مشاورت کی وہاں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی ’’ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ بلانے کے لئے رابطے قائم کر لئے انہوں نے ’’کورونا وائرس ‘‘ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، جمعیت علمااسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنمائوں سے رابطہ کیا جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کچھ رہنمائوں سے بات چیت کی اس طرح اگلے روز ہی میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ’’مشترکہ صدارت ‘‘ میں ’’ویڈیولنک آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ انعقاد پذیر ہو گئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کی مشترکہ صدارت کا تقاضا اس بات کی عکاسی کرتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی ’’ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ کا سارا کریڈٹ میاں شہباز شریف کو نہیں لینے دینا چاہتی تھی یا پھر یہ کہ حکومتی اتحادی اس کانفرنس میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں تھے جس کی صدارت صرف میاں شہباز شریف کر رہے تھے اس بارے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہوئی یہ بات قابل ذکر ہے مولانا فضل الرحمنٰ جو کہ خود آل پارٹیز کانفرنسوں کی صدارت کرتے چلے آرہے ہیں نے میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جمعیت علما اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری کو شرکت کی ذمہ داری سونپ دی اس کانفرنس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الہی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے شرکت کی تاہم وڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے کسی رہنما کو مدعو نہیں کیا گیا جس وقت اپوزیشن کی وڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس انعقاد پذیر ہو رہی تھی اس دوران وزیر اعظم عمران خان ’’ کورنا وائرس ‘‘ کے تناظر میں چیدہ چیدہ اینکر پرسنز کے تیکھے سوالات کے جواب دے رہے تھے اس غیر رسمی ملاقات میں جب ان سے اپوزیشن کی طرف ’’دوستی ‘‘ کا ہاتھ بڑھانے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب دینے سے گریز کیا وزیر اعظم کی پریس ٹاک میں تمام جماعتوں پر مشتمل ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ بلانے کاعندیہ دیا گیا اور نہ ہی انہوں اپوزیشن کے کسی لیڈر سے ملاقات کی خواہش اظہار کیا اپوزیشن کی طرف سے بار بار ’’کورونا وائرس ‘‘ کی موثر روک تھام کے لئے ’’مکمل لاک ڈائون کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ اپنے فیصلے کرنے میں سب سے آگے ہے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جس تیز رفتاری سے اقدامات اٹھا رہے ہیں ان کے بارے میں برملا یہ بات کہی جا رہی ہے ان کی شخصیت میں شہباز شریف کی جھلک نظر آرہی ہے حکومت سندھ جو اقدامات اٹھا رہی ہے اگلے روز حکومت پنجاب و خیبر پختونخوا اٹھانے پر مجبور ہے ’’کورونا وائرس ‘‘ سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میںحکومت اور اپوزیشن ایک ’’صفحہ‘‘ پر نہیں قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کی ذاتی کوششوں سے ایوان زیریں و بالا کی پارلیمانی لیڈرز کانفرنس تو ہو گئی لیکن وزیر اعظم عمران خان جنہوں نے پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہونے والی کانفرنس سے ویڈیو لنک پر ہی خطاب کیا لیکن جوں ہی وہ خطاب کر چکے تو اٹھ کر چلے گئے جس سے کانفرنس میں بدمزگی پیدا ہو گئی وزیر اعظم کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی احتجاجاً واک آئوٹ کر دیا و وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’ میں ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں شہبازشریف بڑے پن کا مظاہرہ کریں،ہم سب نے ملکراس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔لیکن میاں شہباز شریف نے ان کی ایک نہ سنی یہ صورت حال دیکھ کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر مشاہد اللہ خان نے بھی پارلیمنٹ ہائوس میں ہونے والی کانفرنس سے واک آئوٹ کر دیا تاہم سپیکر قومی اسمبلی ان کو منا کر لے آئے اس دوران مشاہد اللہ خان نے میاں شہبازشریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے انہیں کانفرنس میں دوبارہ شرکت کی اجازت دے دی ۔ وزیر اعظم عمران خان ویڈیو کانفرنس میں خطاب کر چکے تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے استفسار کیا کہ’’ کیا وزیر اعظم پالیمانی لیڈرز کانفرنس سے چلے گئے ہیں ‘‘تو ان کو بتایا گیا کہ’’اب وہ کانفرنس میں نہیں ہیں جس پر میاں شہباز شریف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کے بغیر ان کا کانفرنس میں بیٹھنا مناسب نہیں اس کے ساتھ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واک آئوٹ کر دیا اور پھر وہ ویڈیو لنک پر نہیں آئے جب کہ ان کی جماعت کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور شیری رحمن نے کانفرنس میں شرکت کی میاں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا کہ’’ وزیراعظم اجلاس سے کیوں چلے گئے ہیں ۔ وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، ملک کے سربراہ کی سنجیدگی کا یہ لیول ہے اسکے بعد انہوں نے بھی کانفرنس سے وڈیو لنک ختم کر دیا بعد ازاں سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ’’ٹویٹر ‘‘ پر میاں شہباز شریف کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم کی غیر موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی سننا ہی نہیں چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں