185

کرونا لاک ڈاؤن پورا ملک گھروں میں محصور، احمد شہزاد شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکل پڑے

کالام اور سوات کی سیر کے بعد احمد شہزاد کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چترال داخل ہونے کی اجازت نہ ملی، لواری ٹنل سے واپس

تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورا ملک بند پڑا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں وہیں کرکٹر احمد شہزاد فیملی کے ہمراہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکلے ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ ہفتے احمد شہزاد سوات کی وادی کالام گئے تھے جس پر مقامی لوگوں نے بھی سوشل میڈیا پر احتجاج کیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔ لوگوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے باوجود احمد شہزاد سیر و سیاحت کیلئے نکلے ہیں۔

وادی کالام کے سماجی کارکنان نے میڈیا کو بتایا کہ احمد شہزاد ایک معروف شخصیت ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے مداح ہیں۔ اگر وہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس سے دوسرے لوگوں کو بھی شہہ ملے گی۔

احمد شہزاد نے وادی کالام کی تاریخی مسجد میں نماز بھی پڑھی اور بعد ازاں مقامی لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائیں۔

وادی کالام کے بعد احمد شہزاد کی اگلی منزل چترال تھی لیکن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انہیں لواری ٹنل سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔

کمشنر ملاکنڈ ریاض محسود کے مطابق چترال فی الحال کورونا فری ضلع ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کا رسک نہیں لیا جاسکتا جس کی وجہ سے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو وہاں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

کمشنر نے تصدیق کی کہ احمد شہزاد اور ان کی فیملی کو لواری ٹنل کے مقام سے واپس کردیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق احمد شہزاد نے واپسی پر لواری ہاؤس میں سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان کی رہائش گاہ پر کچھ دیر کے لئے قیام کیا اور پھر واپس چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں