81

کروناوائرس کی وباکے دوران باہمی تعاون اور یکجہتی وقت کی ضرورت


(خصوصی رپورٹ):۔ ایک ایسے وقت جب دنیا بھر کے ممالک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو شدید متاثر کر رہا ہے ایسے وقت باہمی اتحاد ویگانگت اور باہمی یکجہتی کی بدولت ہی دنیا کے لوگوں کو اس موزی وبا کے اثرات سے ملکر ہی بچایا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارِ صحت کے 73ویں اجلاس میں جو 18مئی کو منعقد ہوا ہے،اس حوالے سے دنیا بھر کے ممالک نے لوگوں کو اس وبا سے بچانے کے حوالے سے خصوصی انتظامات یقینی بنائیں ہیں۔ بحیثیت ایک بین الاقوامی معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے ہم پر لازم ہیں کہ ہم اس وبا کے خلاف مرکزی کوششیں کرنا اور مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔ چینی صدر ژی جنپنگ نےG-20ممالک کے قائدین کیساتھ اجلاس میں کہا کہ موجودہ حالات میں عالمی برادری کے ضرروی ہے کہ باہمی اعتماد کو مستحکم کریں اور اتحاد ویگانگت کیساتھ کام کرتے ہوئے اجتمائی ردعمل کو اس وبا کے خلاف یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطع پر باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دنیا کی آبادی کو اس موزی وبا سے حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ عالمی ادارہِ صحت اقوامِ متحدہ کے ماتحت ایک خصوصی ادارہ ہے، اور اس حوالے سے وبائی امراض سے لڑنے کے حوالے سے بین الاقوامی سطع پر مربوط اور جامع کوششوں کو آگے بڑھانے کے حوالے سے ایل کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ عالمی ادارہِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس کی سربراہی میں اقوامِ متحدہ کے صحت کے ادارے نے ایک مقصد اور انصاف پسندانہ سائنس پر مبنی انسدادِ وبائی امراض کے تدارک کے حوالے سے ایک فعال کردار ادا کیا ہے۔ جس نے بین الاقوامی سطع پر موثر انداز میں شناخت حاصل کی ہے۔ عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے گزشتہ چند مہینوں میں کرونا وائرس کے حوالے سے انتہائی اہم کوششیں کی گئی ہئں جن کے حوالے سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ عالمی ادارہِ صحت نے دنیا بھر کے ممالک کو محتاط انداز میں اپنی استعداد کار بڑھانے اور کرونا کے تدارک کے حوالے سے معاونت فراہم کی ہے اور اس وبا کے کنٹرول کے حوالے سے تکنیکی معلومات اور طبی عملے کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ اس طرح سے اس کی زیرِ سرکردگی عالمی سطع پر سائنسدانوں کی ایک مربوط ٹیم تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس وبا کے تدارک کے لیے عالمی سائنسی تحقیقی عوامل کو موثر اور مربوط انداز میں مرتب کیا جا سکے۔ اور انٹر نیٹ پر ایک مشترکہ پلیٹ فرام تشکیل دیا گیا ہے انفوڈیمک کے نام سے تاکہ اس موزی وبا سے دنیا کو محفوظ رکھا جا سکے اور بچاؤ کے حوالے سے حفاظتی عوامل سب تک پہنچ سکیں۔ اس حوالے سے عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے طبی عملے کو فرنٹ لائن کردار کے حوالے سے ضروری حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ اور مختلف شراکت داروں کیساتھ ملکر 30ملین ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی گئی ہے تاکہ بروقت اس وبا کی تشخیص یقینی بنا کر لوگوں کو اس کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ حفاظتی انتظامات کے تحت دنیا کے چالیس زبانوں میں اس وبا کے حوالے سے حفاظتہی انتظامات کے حوالے سے ٹریننگ پروگرامز مرتب دیئے گیئے ہیں طبی کارکنوں کو باقاعدہ تربیت اور طبی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ اس طرح سےCovid-19ٹولز ایکسلریٹر تک رسائی پہنچائی گئی ہے جس میں اس وبا کے تدارک کے حوالے سے ویکسین کی تحقیقات کو موثر اور فعال بنانے کے لیئے ساڑھے سات بلین ہورو خرچ کیئے گئے ہیں اس حوالے سے حاصل کردہ متعداد اعدادوشمار اور حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ عالمی ادارہِ صحت نے مستند معلومات جاری کرنے، تکنیکی رہنمائی پیش کرنے اور عالمی سطع پر جاری کوششوں کو ایک جامع مربوط انداز مٰں استوار کرنے کے حوالے سے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وائرس کسی ملک کی سرحد کا احترام نہیں کرتے، اور وبائی امراض تمام نسلوں، ممالک اور خطوں میں بناکسی تفریق کے پھیلتا ہے۔ انسان ایک ایسے معاشرے میں آج رہتا ہے جن کا مستقبل ایک دوسرے سے وابسطہ ہے اور باہمی تعاون ہی وہ واحد اور فعال راستہ ہے جس کے حوالے سے عالمی ادارہِ صحت ایک مثبت کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں اور صحت کو تحفظ یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ گروپ77اور چین نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عالمی ادارہِ صحت کے کرونا وائرس کے وبائی مرض کے تدارک کے حوالے سے جاری کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اس غیر جانبدرانہ تحریک نے کرونا وائرس کے حوالے سے ایک ویڈیو سمٹ کا انعقاد کیا اور ایک سیاسی اعلامیئے کے زرئعے سے اپنی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم 100سے زائد ممالک کی ترجمانی کرتی ہے اور ان کی حمایت میں عالمی ادارہِ صحت نے عالمی معاشرے کے اعتماد کا اشارہ کیا ہے، اس کے علاوہ علاقائی تنظیموں بشمول یورپی یونین اور افریقن یونین نے بھی ٹھوس اقدامات سے عالمی ادارہِ صحت کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس پیرائے میں ہر متعلقہ فریق کی زمہ داری ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہِ صحٹ کیساتھ باہمی تعاون کو یقنی بنایا جائے۔ ایک برطانوی صحافی نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ افراد، کمپنیاں اور تنظیمیں، جو ابھی عالمی ادارہِ صحت کی تنظیمیوں کیساتھ ملکر کام کر سکتی ہیں، میری نظر میں اتنا حیرت انگیز کام کر رہی ہیں جو انسانیت کے لیے بہت کلیدی اہمیت کا ہے۔ صحافی جو جواب دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسی کیایگزیکٹو دائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ عالمی ادارہِ صحٹ میں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہیں جگہ، تعاون اور یکجہتی، انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا بھر میں ہزاروں بہادر فرنٹ لائن کارکنان یہ کام کر رہے ہیں اس سے دنیا کے لیے ایک مشترک امنگ، اور عام رجحان کا انکشاف ہوا، جو مغربی سیاستدانوں کے لیے ایک بد نما داغ کے حامل نظام کے طور پر ہیش کرتا ہے۔ کوئی بھی ایسی کوشش جو عالمی ادارہِ صحت جس سے کسی بھی جیو پولیٹیکل کھیل کے آلہ کار ہونے کا شبہ ہو وہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے اور بنیادی صحت کے حق کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ چیف ایڈیٹڑ برائے لانسیٹ رچرڈ ہارٹن کا یقین ہے کہ عالمی ادارِہِ صحت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور وبائی امراض کے دوران اس آرگنائزیشن کو کمزور کرنے کا فیصلہ انسانیت کے خلاف جرم کے برابر ہے، اس تناظر میں یکجہتی اور باہمی تعاون کا مطالبہ نہیں کیا گیا، بلکہ اس حوالے سے درست انتخاب کیا جانا چاہیے۔ ٹیڈروس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس دنیا بھر میں تباہی پھیلا سکتا ہے۔ یہ کسی بھی دہشت گردانہ حملے سے کہیں زیادہ ہے اور اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو کؤگیتروس نے بھی کہا ہے کہ کرونا وائرس کسی بھی سرحد کا احترام نہیں کرتا، اور یہ وائرس کہیں بھی کسی بھی جگہ سب کے لیے خطرہ ہے، ایک باہم منسلک دنیا میں ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اس سے محفوظ نہیں ہے جب تک ہم سب نہ محفوظ ہوں۔ وبائی امراض کے حوالے سے جاری ممکنہ نا ہلی ہم سب کے لیے ایک چیلنج کی صورت ہے، جس کا مقابلہ دنیا کو اکھٹے ہوکر کرنا ہے۔ اور اس موزی مرض پر قابو پانے کے لیے کنٹرول ڈیویلپمنت کا تجزیہ کیا گیا ہے، تجربے کے اشتراک اور جوابی منصوبوں کے بارے میں دنیا عالمی ادارہِ صحت کی جانب امید سے دیکھ رہی ہے۔ وائرس کو شکست دینے کے لیئے دنیا کو باہمی تعاون کو یقینی بنانا ہوگا اور بنی نوع انسان کی مشترکہ صحت اور روشن مستقبل کو باہم متحد اور باہمی یکجہتی سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں