203

اِبنِ آدم

شاہد کاظمی

یہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ اس معاشرے میں حقوق کا تعلق صرف مردوں کے حقوق سے ہے۔ اس معاشرے میں فرائض کا تعلق صرف بےچاری عورت سے منسلک ہے۔ عورت پوری زندگی خدمت کی چکی میں پستی رہتی ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ گھر سنبھالتی ہے، بچے سنبھالتی ہے، والدین، ساس سسر کو سنبھالتی ہے پھر بھی اس کی محنت کا صلہ اسے نہیں ملتا اور اسے کرختگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام اور دیگر کئی ایسے تلخ جملے ہیں جو راقم الحروف کے کان خود سن چکے ہیں۔ سنی سنائی باتوں پہ جائیں تو ان جملوں اور  طعنوں تشنوں کی تعداد محدود کرنے کے دائرے سے بھی باہر ہے۔ ہمارا معاشرہ یقینی طور پر ابھی بلوغت تک نہیں پہنچا اور اس بلوغت تک نا پہنچ سکنے کی وجہ سے ہی عورت کو مسائل درپیش ہیں۔ اور حقیقت سے ہرگز انکار ممکن نہیں کہ عورتوں کے زندگی کے بہت سے معاملات میں مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن کیا معاشرے کی اکائی صرف عورت ہے؟ کیا مشکلات صرف عورت کو درپیش ہیں؟ کیا مرد اس معاشرے کی اکائی نہیں؟ کیا مرد کو مشکلات درپیش نہیں؟ کیا مردانگی کے نعرے کے پیچھے ہم مردوں کو درپیش مسائل دفن تو نہیں کر دیتے؟ کیا ہم مردوں کا مسائل بتانا مردانگی کے خلاف سمجھتے ہوئے طنز کی نظر تو نہیں کر دیتے؟ کیا صنفی امتیاز کا شکار مرد بھی تو نہیں ہو رہا؟ یہ اور اس سے جڑے مزید کئی ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات نا تو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے نا اس جانب توجہ دی گئی ہے۔ بلکہ اسے ممنوعہ موضوعات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اور اس پہ لکھنا، بولنا، تو دور اس پہ سوچنا بھی معیوب تصور کیا جانے لگا ہے۔ لیکن قابل غور نقطہ تو یہ ہے کہ معاشرے کی تمام اکائیوں کو اگر مسائل درپیش ہیں تو مرد بھی اس معاشرے کی ایک اکائی ہے اسے بھی یقینی طور پر کچھ مسائل کا سامنا ہو گا۔ مسائل کا وزن ہو سکتا ہے عورت کے مقابلے میں قدرے کم ہو لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ مرد معاشرے میں مسائل کا شکار بہرحال ہے۔

آپ این جی او کا نام سنتے ہیں تو فوری طور پر عورتوں کے حقوق ہی ذہن میں آتے ہیں۔ آپ انسانی حقوق یا صنفی امتیار کی کسی غیر سرکاری تنظیم کے قیام، اغراض و مقاصد یا کسی سرگرمی کے حوالے سے کوئی خبر پڑھتے ہیں تو آپ کا ذہن فوری طور پر تانے بانے بن کر خبر خود مکمل کر لیتا ہے کہ یہ یقینی طور پر عورتوں کے حقوق کے لیے کوئی تنظیم ہو گی۔ لیکن بنتِ حوا کے حقوق کے ساتھ اب آپ کو اِبنِ آدم کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی دیکھنے کو ملیں گی۔ بات یقینی طور پر ہضم ہونے والی نہیں ہے لیکن یہی سچ ہے۔ اور اس روشں میں بارش کا پہلا قطرہ بننے والی غیر سرکاری تنظیم کا نام ہی “اِبنِ آدم” ہے۔ ڈاکٹر عارفہ صبح خان کو نہ جانے کیا سوجھی ہے کہ ایک عورت ہوتے ہوئے انہوں نے مردوں کے حقوق کی ٹھان لی ہے۔ ابن آدم کو شروع کرنے کا سہرا مشہور لکھاری، شاعرہ، ڈاکٹر عارفہ صبح خان کے سر ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے معاشرتی بھیڑ چال سے الگ چلنے کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتی ہیں لیکن ابن آدم کے قیام سے ان کے ناقدین بھی حیران ہیں کہ یہ کیسا انوکھا قدم ہے۔ یہ انوکھا اس لیے ہے کہ وہ خود اس کی چیئرپرسن ہیں۔ آپ ایک لمحہ تصور کیجیے کہ مردوں کے حقوق کے لیے ایک تنظیم بنی ہے، مردوں کے حقوق کے لیے کام کرئے گی، اور اس کی چیئرپرسن ہیں ایک عورت، اور عورت بھی وہ جو معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ بات ہی حیرانگی کی ہے۔ اور مزید حیرانگی کی بات یہ کہ وہ اس تنظیم کو عالمی سطح پہ روشناس کروانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی حد تک تو ان کے ساتھ الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر انعام جاوید جیسے بڑے انعام ان کے ساتھ موجود ہیں۔ جو اس تنظیم کی سنجیدگی کا نہ بولتا ثبوت ہے۔

معاشرے میں بگاڑ تب آتا ہے جب معاشرہ ایک مخصوص اور لگی بندھی روش اپنا لیتا ہے۔ آپ صنفی امتیاز کو ہی لے لیجیے۔ صنفی امتیاز کو بطور اصطلاح اور زبان کے دائرے میں پرکھیے اس میں تو گماں بھی نہیں کہ یہ صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ مرد بھی تو صنفی امتیاز کا شکار ہو سکتا ہے کہ بڑوں کے کسی فیصلے کے ساتھ پوری زندگی بندھا رہتا ہے اور بحالت مجبوری ایسے فیصلے بھی ماننے پہ مجبور رہتا ہے جنہیں اس کا دل ماننے کو پوری زندگی تیار نہیں ہوتا۔ کیا آپ کے دل میں کبھی خیال بھی آیا کہ کبھی مردوں کے حوالے سے بھی صنفی امتیاز کی گردان کی جائے؟ یقینی طور پر نہیں۔ جس طرح راقم الحروف کے لیے یہ خیال نیا ہے بالکل ایسے ہی یہ عام قاری کے لیے بھی نیا خیال ہے۔
اس حوالے سے دو رائے نہیں کہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان جیسی ادبی شخصیت کے دل میں اگر یہ اچھوتا خواب آیا ہے تو وہ یقینی طور پر اس خواب کو تعبیر کا راستہ دکھائیں گی۔ اور وہ جتنی سنجیدہ ابن آدم کی کامیابی کے لیے ہیں وہ ان کی کوششوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ باقی ابن آدم خوش ہوئیے کہ آپ کے مسائل کا احساس کسی کو تو ہوا۔   

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں